وزیرداخلہ رحمان ملک نے دہشت گردوں کی طرف سے ملک میں مزید کاررواوئیاں کرنے کے خدشے کا اظہار کیا ہے ، وزیرداخلہ نے وزیرستان میں گزشتہ روز میڈیا کے سامنے آنے والے طالبان تحریک کے حکیم اللہ محسود کی حقیقت پر بھی شک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ حکیم اللہ کا بھائی محسوس ہوتا ہے ۔ وزیرداخلہ نے اسلام آباد میں گزشتہ روز ورلڈ فوڈ پروگرام کے دفتر میں خودکش دھماکے سے زخمی ہونے والوں کی عیادت کیلئے آج پمز اسپتال کا دورہ کیا ،، اس واقعے کے تین زخمی اسپتال میں زیر علاج ہیں ،، وزیرداخلہ نے میڈیا سے گفت گو میں کہا کہ طالبان کے محسود گروپ کے مخصوص اہداف کو نشانہ بنانے کی کارروائی جاری ہے اور اگر محسوس ہوا کہ ان کی کارروائیاں بڑھ رہی ہیں تو فورسز کے ایکشن کا دائرہ کار مزید بڑھایا بھی جاسکتا ہے ، ، انہوں نے کہا کہ طالبان قیادت کا خاتمہ کیا جاچکا ہے جبکہ باقی ماندہ طالبان زخمی سانپ بن چکے ہیں ، رحمان ملک نے کہا کہ سوات میں طالبان کی لیڈرشپ نے فیصلہ کیا تھا کہ عید کے بعد دہشت گردی کی کارروائیاں کی جائیں گیں جبکہ وزیرستان کے دہشت گردوں نے ایک میٹنگ بھی کی ہے جس میں انہوں نے فیصلہ کیا ہے بیت اللہ محسود کی ہلاکت کا بدلا لیا جائے گا ، اس لیئے اس لئے خدشہ ہے کہ دہشت گردی کی مزید کاررواوئیاں کی جاسکتی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں کسی بھی جگہ پر حکومت کی رٹ چیلنج کرنے والوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔دہشتگرد ملک چھوڑ دیں ورنہ ان کا حشر بہت برا ہوگا،وزیر داخلہ نے کہا کہ خودکش حملہ آور پاکستانی نہیں ہوسکتے۔
15 جون 2009 - 19:30
News ID: 168743
طالبان قیادت کا خاتمہ کیا جاچکا ہے جبکہ باقی ماندہ طالبان زخمی سانپ بن چکے ہیں.